پشاور- پشتون تحفظ مومنٹ نے 24 جنوری سے کراچی میں پاکستانی سرکار کے خلاف احتجاجی مظاہرہ شروع کیا ہے جو اج دوسرے دن بھی جاری رہا ۔

احتجاجی مظاہرے میں کراچی کی سطح پر پی ٹی ایم کی مقامی قیادت اور کارکنان حصہ لے رہے ہیں ۔

پی ٹی ایم کراچی کے رہنما نوراللہ نے میڈیا سے گفتگو میں پاکستانی سرکار کی سخت تنقید کا نشانہ بنایا ۔

انہوں نے کہا کہ مظاہرین نے پاکستانی سرکار کو پانچ مطالبات پیش کئے ہیں ۔

نوراللہ ترین نے کہا کہ مطالبات میں عالمزیب محسود کی رہائی، خیسورہ واقعہ کی شفاف تحقیقات، کراچی میں پی ٹی ایم کے دیگر 3 گرفتار کارکنوں رہائی، کراچی میں 2 نومبر سے لیکر اج تک پولیس کی طرف سے پی ٹی ایم کے رہنماؤں اور کارکنوں پر قائم کئے گئے مقدمات کو ختم کرکے ایف ائی آر واپس لینا اور کراچی میں تجاوزات کے نام پر پشتونوں کے کاروباری مراکز کو مسمار کرنے کا سلسلہ بند کرنا شامل ہیں ۔

عالمزیب محسود کو پولیس نے 21 جنوری کو کراچی میں گرفتار کیا ۔

گرفتاری سے ایک دن پہلے پولیس نے عالمزیب محسود سمیت پی ٹی ایم کے 14 کارکنوں پر من گھڑت مقدمات بنواکر ان پر دہشتگردی کے دفعات کے ایف ائی آر درج کئے ۔

پولیس نے 22 جنوری کو عالمزیب محسود کو کراچی کے ایک مقامی عدالت میں پیش کیا ۔

عدالت نے چار روز کے لئے عالمزیب محسود کو جوڈیشل ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا ۔

کراچی میں عالمزیب محسود کی گرفتاری اور خیسورہ واقعہ کے بعد پشتونوں میں پاکستانی سرکار اور فوج کے خلاف نفرت اور اشتعال میں اضافہ ہوا ہے جبکہ دوسری طرف پشتون تحفظ مومنٹ نے اپنی احتجاجی سرگرمیاں بڑھا دیئے ہیں اور تمام پشتون علاقوں اور پاکستان کے بڑے شہروں میں بڑے بڑے احتجاجی مظاہرے منعقد کرنے کا سلسلہ تاحال جاری ہے ۔

اگرچہ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے عالمزیب محسود کی رہائی کے لئے پاکستان کے سرکار پر زور ڈالا ہے اور پی ٹی ایم کے قیادت اور کارکنوں سمیت کئی ملکی اور غیر ملکی شخصیات نے عالمزیب محسود کی گرفتاری پر پاکستانی سرکار کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں ۔

مگر عالمی انسانی حقوق اور خواتین کی تنظیمیں خیسورہ واقعہ پر خاموش ہیں جس پر مقامی لوگوں نے حیرت کا اظہار کیا ہے ۔

منظور پشتین نے آج ایک ٹویٹر پیغام میں خیات وزیر کے والدہ کا پاکستانی فوج کے خلاف ایک ویڈیو شکایت ڈسپلے کیا ہے جسمیں خیات وزیر کے والدہ نے پاکستانی فوج کے خلاف چادر اور چاردیواری کی پامالی کا الزام لگاکر انصاف مانگتی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی فوج کی طرف سے اسکی اور گھر کے دیگر عورتوں کی عزت کو شدید خطرہ موجود ہے ۔

تاہم تھوڑی دیر بعد منظور پشتین نے وہ ٹویٹ ہٹا دیا ۔

اگر خیسورہ واقعہ کا شفاف تحقیقات کرائی جاتی ہیں تو پاکستانی فوج کو عالمی سطح پر بے نقاب کرکے متاثرہ خاندان کو انصاف دلوایا جاسکتا ہے ۔

Comments