بنوں- پشتون تحفظ مومنٹ بنوں کے رہنماؤں کے گھروں پر کل 6 نومبر سے پولیس نے چھاپے مارنا شروع کئے ہیں اور انکی گرفتاری کی کوشش کر رہے ہیں ۔

پولیس نے کل 6 نومبر کو پی ٹی ایم کے اہم رہنماؤں حنیف پشتین ، سلیم کامریڈ اور سعید وطن پال کے گھروں پر چھاپے مارے اور حنیف پشتین کی گھر پر عدم موجودگی میں اسکے دو چچا ذاد بھائیوں فرید خان اور حکمت اللہ کو گرفتار کرکے ساتھ لے گئے ہیں ۔

علاوہ ازیں پولیس نے اج 7 نومبر کو علیم خان اور شاہد خان کے گھروں پر چھاپے مارے ہیں تاہم گھر پر عدم موجودگی کی صورت میں انکو گرفتار نہیں کئے گئے ہیں

واضح رہے کہ پی ٹی ایم کے جلسہ بنوں کے انعقاد کے بعد پولیس نے پی ٹی ایم کے اہم اور سرکردہ رہنماؤں کے خلاف ایف آئی آر درج کئے ہیں ۔

پی ٹی ایم کے رہنماؤں کے گھروں پر پولیس چھاپے مارنے کے خلاف تحریک کے کارکنوں نے سوشل میڈیا پر شدید احتجاج اور ردعمل ریکارڈ کرنا شروع کیا ہے ۔

پی ٹی ایم کے ایک فعال کارکن فاروق محسود نے اپنے ٹویٹر پیغام میں تحریک کے رہنماؤں کے گھروں پر پولیس چھاپے مارنے کی شدید مذمت کی ہے ۔

انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ بغیر کسی گرفتاری وارنٹ کے پی ٹی ایم کے رہنماؤں کے گھروں پر پولیس چھاپے ایک غیر قانونی عمل ہے جسکے نتیجہ میں حنیف پشتین اور دیگر رہنماؤں کے چادر اور چاردیواری کی پامالی ہوئی جوکہ بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے ۔

پی ٹی ایم بنوں کے سرکردہ رہنما ندیم عسکر نے تحریک کے رہنماؤں کے گھروں پر پولیس چھاپوں کے خلاف سخت ردعمل ظاہر کیا ہے ۔

ندیم عسکر نے پولیس کو متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی ایم کے رہنماؤں اور کارکنوں کو غیر قانونی طریقے سے تنگ کرنے سے باز رہے ۔

ندیم عسکر نے کہا کہ ہمارا جنگ کالے پنجابیوں کے ساتھ ہے اگر اس جنگ میں خیبر پختونخوا کی پولیس فورس گود پڑتا ہے تو بسمہ اللہ ۔

انہوں نے کہا کہ اگر پولیس نے اپنے غیر قانونی کریک ڈاؤن کا سلسلہ بند نہیں کیا تو پی ٹی ایم کے کارکنان سڑکوں پر پولیس کے خلاف بھی دمہ دم مست قلندر شروع کرنے میں ذرا بھر بھی تاخیر نہیں کرینگے ۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز نامعلوم افراد کے روپ میں پاکستانی فوج کے ایما پر گڈ طالبان نے ندیم عسکر کے چچا ذاد کو گولیوں سے چھلنی کرکے شہید کیا جسکے جنازے میں ہزاروں افراد نے شرکت کیا ۔

جنازے کے موقع پر ندیم عسکر نے کہا کہ شہادتوں کے نتیجے میں نہ جھکے گے اور  نہ پھیچے ہٹے گے بلکہ پشتونوں کو دہشتگرد ریاست کے ریاستی دہشتگردی سے نجات دلواکر دم لینگے ۔

Comments