جرمنی ۔  جیئے سندھ متحدہ محاذ کے چیرمین شفیع محمد برفت نے پارٹی کارکنوں سمیت تمام سندھیوں سے اپیل کی ہے کہ سب مل کر کراچی امد پر منظور پشتین، علی وزیر اور پی ٹی ایم کی دیگر قیادت کا بھر پور استقبال اور 13 مئی کو ہونے والے جلسہ عام میں شرکت کریں ۔ شفیع محمد برفت نے پشتون نیوز کو پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ انکی پارٹی اور سندھ کے دیگر باشعور لوگ کراچی میں پی ٹی ایم قیادت کو سندھ کی روایتی اور ثقافتی سندھی اجرک اور ٹوپی پہنا کر انکا استقبال کیا جائے گا تاکہ پاکستان میں تمام محکوم قومیتوں کے درمیان اتفاق اور یگانگت کی فضا کو مذید مظبوط کیا جائے ۔ اسکے علاوہ برفت صاحب نے پی ٹی ایم کی قیادت اور پوری پشتون قوم سے ایک بہت بڑی اور اہم توقع کا اظہار بھی کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں ہونے والی پی ٹی ایم کا جلسہ صرف پشتونوں کا نہیں بلکہ پاکستان کے جبری الحاق میں قید تمام محکوم قومیتوں پشتونوں، سندھیوں ، بلوچوں، سرائیکیوں اور کشمیریوں کے درمیان باہمی اتحاد اور یکجہتی کا جلسہ ہونا چاہیے ۔ انہوں نے مذید کہا کہ چونکہ پی ٹی ایم کا جلسہ عام سندھ کی تاریخی دھرتی پر ہونے جارہاہے تو سندھ کی قومی وحدت کے اخترام کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کے سکیورٹی اداروں کے ہاتھوں لاپتہ سندھ کے سیاسی کارکنوں ( سندھی اور اردو بولنے والے سندھی شہریوں ) کا ذکر کرنا بھی ضروری ہوگا ۔ انہوں نے پشتون قیادت اور پوری پشتون قوم سے یہ امید وابستہ کیا گیا ہے کہ پشتون قوم بحیثیت قوم سندھودیش کی آزادی کے لئے جاری تحریک کا سیاسی ، اخلاقی ، نفسیاتی اور سفارتی سطح پر مکمل حمایت اعلان کرے ۔ برفت صاحب کا کہنا تھا کہ سندھی قوم پشتونوں کے قومی آزادی اور افغانستان کے اقتدار اعلی اور استقلال کی ہر قسم کی حمایت ہر فورم پر کرتی رہے گی ۔ انہوں نے بار بار امریکہ اور عالمی برادری سے اپیل کیا ہے کہ ڈیورنڈ لائن کو ری ویزٹ کرکے افغانستان کے ساتھ کرائ جانے والی تاریخی بے انصافی اور غلطیوں کو نہ صرف تسلیم بلکہ ازالہ بھی کیا جائے تاکہ پاکستان اور پاکستان کے ریاستی دہشتگردی سے افغانستان اور پوری دنیا کو نجات دیا جائے ۔ سندھودیش تحریک کے سرخیل جو صرف سندھ کے موجودہ اور تاریخی لحاذ سے قومی مسائل کو اجاگر کرتے ہوئے سندھودیش کا مقدمہ بھر پور انداز میں لڑتے ہیں بلکہ پشتونوں اور بلوچوں سمیت دیگر محکوم قومیتوں کے قومی مسائل پر بھی اچھے بھلے انداز میں بات کرتے ہیں جنکی وجہ سے برفت صاحب نہ صرف سندھودیش بلکہ تمام محکوم قومیتوں کا ایک محبوب لیڈر بن کر سامنے آیا ہے ۔ انہوں نے پشتون نیوز کے ساتھ بات چیت کے دوران افغانستان اور ڈیورنڈ لائن کے دونوں طرف افغان ملت کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا ۔ ایسی حالت میں پی ٹی ایم کے قیادت کو بنیادی فیصلے کرنے ہونگے ۔ کراچی میں ہونے والے جلسہ کے دوران جسمیں سندھی اور اردو بولنے والے سندھودیش کے سیاسی کارکنان شرکت کرینگے سندھ کے مسائل پر تفصیلی بات کرنی چاہیے ۔ پاکستان کے سکیورٹی اداروں نے پشتونوں کا جو خشر نشر کردیا ہے وہی حالت سندھ یوں کا بھی ہے ۔ ہزاروں کے حساب سے سندھ کے بہادر اور غیرتمند سیاسی اور نظریاتی سپوتوں کو لاپتہ کرکے پاکستان کے سکیورٹی فورسز کے ٹارچر سیلوں میں زندگی اور موت کے کشمکش میں مبتلہ ہیں ۔ سندھودیش کے قومی مسائل اور لاپتہ افراد کے ایشوز پر پی ٹی ایم کی قیادت کو سندھیوں کی زبان میں بول کر انکے ساتھ پاکستان کے خلاف تمام مصائب میں کھڑے ہونے کا پیغام دینا ہوگا کیونکہ پشتونوں اور سندھیوں کے درمیان باہمی احترام کے جذبے پر قائم تعلقات کو مذید مظبوط کرنا وقت کا تقاضا ہے ۔ پی ٹی ایم کی قیادت اور اس تحریک میں نظریاتی سیاسی کارکنوں کو ان ایشوز کا کافی علم اور ادراک ضرور ہے انکی کمیٹمنٹ اور سیاسی بصیرت کو مدنظر رکھ کر پی ٹی ایم اور پوری افغان ملت سندھودیش کی تاریخی قوم سندھیوں کو کسی بھی موڑ پر مایوس نہیں کرینگے ۔ تاریخی لحاظ سے ان دونوں قومیتوں کے درمیان دوستانہ تعلقات رہے ہیں ۔ اج بھی دونوں قوموں کے مسائل اور مشکلات تقریبا ایک جیسے ہیں اور دشمن بھی مشترکہ ہے لیہزا سب کو مل کر اگے بڑھنا چاہیے تاکہ جابر اور عاصب کے خلاف جاری جنگ کو جیت کر ریاستی دہشتگردی اور دہشتگرد ریاست کو مشترکہ کوششوں کے نتیجے میں شکست فاش سے دوچار کریں ورنہ تیری بربادیوں کے مشورے ہیں انسانوں میں ۔

پریس ریلیز

Comments